18 اکتوبر 2010 - 20:30

راوی: حضرت آیت اللہ العظمی سید موسی شبیری زنجانی ـ دامت برکاتہ ـ

آیت اللہ العظمی سید موسی شبیری زنجانی فرماتے ہیں:

امام خمینی رحمةاللہ علیہ میرے والد کے ہمراہ سلطان خراسان حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی زیارت کی نیت سے مشہد مقدس مشرف ہوئے۔ امام صحن حرم میں عارف باللہ و سالک الی اللہ حاج شیخ حسن علی نخودکی رحمۃاللہ علیہ سے ملے۔

امام رحمۃاللہ علیہ کی عمر اس وقت تیس سے چالیس برس کے درمیان تھی اور آپ (رح) نے عارف واصل مرحوم شیخ نخودکی سے کہا: میں آپ سے مختصر سی بات چیت کرنا چاہتا ہوں۔

شیخ حسن علی نخودکی رحمۃاللہ علیہ نے کہا: میں اعمال بجا لا رہا ہوں فارغ ہونگا تو ملنے آؤں گا؛ آپ جائیں اور علامہ شیخ حر عاملی (رح) کے مزار پر میرا انتظار کریں۔ (کتاب "وسائل الشیعہ" کے مؤلف شیخ حر عاملی رحمۃاللہ علیہ کا مزار صحن انقلاب میں واقع ہے۔)

امام اور میرے والد دونوں شیخ حر عاملی کے مزار پر انتظار کرنے بیٹھ گئے اور تھوڑی دیر بعد شیخ بھی تشریف لے آئے۔

شیخ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ سے کہا: آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟

امام نے شیخ نخودکی رحمۃاللہ علیہ سے مخاطب ہوکر امام رضا علیہ السلام کی گنبد کی طرف رخ کیا اور کہا: میں آپ کو امام رضا (ع) کی قسم دیتا ہوں کہ اگر واقعی آپ کے پاس علم کیمیا ہے تو ہمیں بھی دے دیں۔

حاج شیخ حسن علی نخودکی نے علم کیمیا سے اپنی واقفیت کا انکار نہیں کیا بلکہ اس وقت کے نوجوان سید اور عالم دین سے فرمایا: اگر ہم آپ کو کیمیا دے دیں اور آپ دشت و دمن اور کوہ و صحرا کو سونے میں تبدیل کردیں تو کیا آپ وعدہ کریں گے کہ اس کو بجا طور پر استعمال کریں گے اور اس کی حفاظت کریں گے اور ہر جگہ بروئے کار نہیں لائیں گے؟امام خمینی رحمۃاللہ علیہ ـ جو بچپن اور نوجوانی سے ہی صداقت اور راست بازی کا پیکر تھے ـ تھوڑی دیر تک سوچنے کے بعد کہنے لگے: نہیں! میں ایسا وعدہ نہیں کرسکتا۔شیخ نخودکی رحمۃاللہ علیہ نے جب امام رحمۃاللہ علیہ کی یہ بات سنی تو امام سے مخاطب ہوکر فرمایا: اب جو آپ کیمیا کی حفاظت نہیں کرسکتے تو میں کیمیا سے بھی بہتر نسخہ آپ کو یاد دلاتا ہوں جو کچھ یوں ہے:٭ واجب نمازوں کے بعد ایک بار آیۃالکرسی "ہوالعلیُّ العظیم" تک، پڑھنا٭ اس کے بعد تسبیحات سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بجا لانا٭ تین بار صلوات بھیجنا: اللهم صل علی محمد و آل محمد٭ تین مرتبہ یہ آیت تلاوت کرنا: وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَ مَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا ً؛ (سورہ طلاق آیات 2 و 3) (ترجمہ: اور جو اللہ سے ڈرے تو وہ اس کے لئے نکاسی (اور نجات) کا راستہ پیدا کرتا ہے۔ اور اسے روزی دیتا ہے اس طرح جو اس کے سان گمان میں بھی نہیں ہے اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لئے کافی ہے یقیناً اللہ اپنے کام کا پورا کرنے والا ہے اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک مقدار مقرر کی ہے۔) حاج شیخ حسن علی نخودکی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کا یہ اذکار نماز واجب کے بعد پڑھتے رہنا کہ یہ کیمیا اور علم کیمیا سے بہتر ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110